Thursday, 9 September 2021

نجانے کیوں بڑی شدت سے یاد آیا ہے

 نجانے کیوں بڑی شدت سے یاد آیا ہے

وہ ایک شخص جو میرا نہیں پرایا ہے

میں اپنے ہاتھ کا کنگن سمجھ رہی تھی جسے

اِسے کسی نے پہن کر ابھی دکھایا ہے

کوئی جواز تو رکھنا تھا اس سے ملنے کا

سو آج زہر بھی تھوڑا سا میں نے کھایا ہے

شبِ فراق بڑی مشکلوں سے ملتی ہے

سو خود کو ہیر تو رانجھا اسے بنایا ہے

وہ جس کی ایک نظر نے جلا دیا تھا مجھے

مِری لحد پہ گھٹا بن کہ آج چھایا ہے


لبنیٰ عکس

No comments:

Post a Comment