نجانے کیوں بڑی شدت سے یاد آیا ہے
وہ ایک شخص جو میرا نہیں پرایا ہے
میں اپنے ہاتھ کا کنگن سمجھ رہی تھی جسے
اِسے کسی نے پہن کر ابھی دکھایا ہے
کوئی جواز تو رکھنا تھا اس سے ملنے کا
سو آج زہر بھی تھوڑا سا میں نے کھایا ہے
شبِ فراق بڑی مشکلوں سے ملتی ہے
سو خود کو ہیر تو رانجھا اسے بنایا ہے
وہ جس کی ایک نظر نے جلا دیا تھا مجھے
مِری لحد پہ گھٹا بن کہ آج چھایا ہے
لبنیٰ عکس
No comments:
Post a Comment