ذہن انساں کو جب جھنجھوڑے گا
غم طلسمِ فریب توڑے گا
پنجۂ ظلم جو مروڑے گا
اپنا رشتہ خدا سے جوڑے گا
وقت برباد کرنے والے کو
وقت برباد کر کے چھوڑے گا
اس کو حالات ہی نہ چھوڑیں گے
خود کو حالات پر جو چھوڑے گا
رخِ غم زندگی کا اے راہی
صرف باتوں سے کیسے موڑے گا
دواکر راہی
No comments:
Post a Comment