اے خدا کل کو میرے آج بنا
تو مجھے مستقل مزاج بنا
دھیرے دھیرے چلن میں آیا میں
اور پھر ایک دن رواج بنا
کتنی مشکل سے طے ہوئے رشتے
کتنی صدیوں میں یہ سماج بنا
اک گناہ گار کا لہو دیکھو
ایک بیمار کا علاج بنا
اس طرح بچ گیا وہ چھوٹا ملک
اک بڑے ملک کا خراج بنا
تھا وہ زیور کسی طوائف کا
شاہزادے کا جس سے تاج بنا
گاؤں کے گاؤں ہو گئے بنجر
کارخانوں میں جب اناج بنا
سردار آصف
No comments:
Post a Comment