Thursday, 9 September 2021

اے خدا کل کو میرے آج بنا

 اے خدا کل کو میرے آج بنا

تو مجھے مستقل مزاج بنا

دھیرے دھیرے چلن میں آیا میں

اور پھر ایک دن رواج بنا

کتنی مشکل سے طے ہوئے رشتے

کتنی صدیوں میں یہ سماج بنا

اک گناہ گار کا لہو دیکھو

ایک بیمار کا علاج بنا

اس طرح بچ گیا وہ چھوٹا ملک

اک بڑے ملک کا خراج بنا

تھا وہ زیور کسی طوائف کا

شاہزادے کا جس سے تاج بنا

گاؤں کے گاؤں ہو گئے بنجر

کارخانوں میں جب اناج بنا


سردار آصف

No comments:

Post a Comment