Thursday, 9 September 2021

چین کب آئے گا دل برباد

 چین کب آئے گا دلِ برباد

بھول جا بےوفا کو مت کر یاد

شہر کا شہر تیرا ہے دشمن

ہونے دے جو بھی ہوتی ہے بیداد

شہرِ حاکم کے کان بہرے ہیں

پھر بھلا کیسے وہ سنے فریاد

میرا مونس اگر ہے پڑھ لے وہ

میری آنکھوں میں ہے لکھی روداد

اب بھروسہ کریں تو کس پہ کریں

کون ہے دوست کون ہے صیاد

سب کے چہروں پہ دو دو چہرے ہیں

مولا جانے کہ کون ہے بہزاد

میرے احباب سب منافق ہیں

وہ سلامت رہیں سدا اور شاد

ان کا بزمِ سخن میں ہے یہ طور

شعر سنتے ہیں دیتے کب ہیں داد

عمر بھر ہجر و یاس میں گزری

ہے مقدر تمہارا یہ شہزاد


ضیا شہزاد

No comments:

Post a Comment