ہوا کچھ گنگنائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
کلی جب مسکرائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
کبھی پچھلے پہر میں رات کے جو تیز آندھی سے
دِیا لو تھر تھرائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
لبِ خاموش پہ جب بھی خیالوں کے جزیروں کی
کوئی آواز آئے تو مجھے تم یاد آتے ہو
وہ شالیمار میں بارش میں جو بھیگے تھے ہم دونوں
وہ موسم لوٹ آئے تو مجھے تم یاد آتے ہو
عروجِ تابناکی دیکھ کر قسمت پہ خوش ہو کر
ستارہ جگمگائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
مسافت کرکے طے ہر شام کو پھر لوٹ کے سورج
جو ڈل میں ڈوب جائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
نکل کر گھر کی وحشت سے کہیں صحرا میں کہ راشف
جنوں جو سر کٹائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
راشف عزمی
No comments:
Post a Comment