شہکار کوئی ایسے ہی تخلیق کیا کر
اقوال کی، اعمال کی تصدیق کیا کر
کیا کس نے کہا جان لے تشہیر سے پہلے
حق کیا ہے تو اس بات کی تحقیق کیا کر
گہوارہ بنا امن کا دنیا کو وفا سے
اپنوں سے کسی طور نہ تفریق کیا کر
حسرت سے اٹھا ہاتھ کبھی مانگ دعائیں
مجھ کو بھی خدا خیر کی توفیق کیا کر
ایماں کا تقاضا ہے یہی حکم خدا کا
حق بات کی لازم ہے کہ توثیق کیا کر
جو کچھ میں رقم کرتا ہوں وہ حال جدا ہے
اس کو نہ مِرے حال سے تطبیق کیا کر
اسرار حقیقت کا گماں ہونے لگے گا
بس نکتہ نظر جیسے ہو تعمیق کیا کر
علیم اسرار
No comments:
Post a Comment