Thursday, 9 September 2021

خود کو دنیا سے ہی بیزار سمجھ لیتے ہیں

 خود کو دنیا سے ہی بیزار سمجھ لیتے ہیں

آئیے، آپ سے ہم پیار سمجھ لیتے ہیں

قید ان کو نہیں کر پائے گا صیاد کبھی

یہ پرندے تِری رفتار سمجھ لیتے ہیں

زندگی چھین کے یہ زخم لگائے گا فقط

عشق کم بخت کو ہی دار سمجھ لیتے ہیں

کیا ستم ان پہ بھی ڈھایا ہے صنم سچ کہنا

درد اب میرا جو اغیار سمجھ لیتے ہیں

آئینے ٹوٹ کے بکھرے ہیں ستم سہہ کے نسیم

وہ جسے مصر کا بازار سمجھ لیتے ہیں


نسیم بیگم

No comments:

Post a Comment