Thursday, 9 September 2021

گلہ نمو کا نہ دل میں خزاں کا غم رکھا

 گِلہ نمو کا نہ دل میں خزاں کا غم رکھا

میں جس کی شاخ ہوں اس پیڑ کا بھرم رکھا

وہ ایک غم ہی تو دل بستگی کا ساماں ہے

تمام عمر ہمیں جس نے تازہ دم رکھا

کچھ اس لیے بھی میں کرتا ہوں احترام اس کا

سر آسماں کو چُھو کر بھی اس نے خَم رکھا

مجهے خبر ہے کہ انمول ہے یہ جنس یہاں

اسی لیے نہ کبھی دل کا مول کم رکھا

تھا ایک بار عجب سر پہ بے امانی کا

جو ماں کے بعد عدیل اب کے گھر قدم رکھا


عدیل شاکر

No comments:

Post a Comment