کسی نے جب کتابیں کھولنی ہیں
تو سمجھو بند راہیں کھولنی ہیں
شجر کاری ضروری ہو گئی ہے
ہمیں جنگل کی آنکھیں کھولنی ہیں
مجھے لگتا ہے دم گھٹتا ہے ان کا
غباروں کی ہوائیں کھولنی ہیں
کوئی تدبیر ہو بتلائیے گا
بدن کی ساری گرہیں کھولنی ہیں
ستارے لے تو آؤں پر تمہیں بھی
فلک کے جیسے بانہیں کھولنی ہیں
تمہیں کس بات کی جلدی پڑی ہے
ابھی سورج نے آنکھیں کھولنی ہیں
شاہد اقبال
No comments:
Post a Comment