Thursday, 9 September 2021

کسی نے جب کتابیں کھولنی ہیں

 کسی نے جب کتابیں کھولنی ہیں

تو سمجھو بند راہیں کھولنی ہیں

شجر کاری ضروری ہو گئی ہے

ہمیں جنگل کی آنکھیں کھولنی ہیں

مجھے لگتا ہے دم گھٹتا ہے ان کا

غباروں کی ہوائیں کھولنی ہیں

کوئی تدبیر ہو بتلائیے گا

بدن کی ساری گرہیں کھولنی ہیں

ستارے لے تو آؤں پر تمہیں بھی

فلک کے جیسے بانہیں کھولنی ہیں

تمہیں کس بات کی جلدی پڑی ہے

ابھی سورج نے آنکھیں کھولنی ہیں


شاہد اقبال

No comments:

Post a Comment