جو کبھی دوسروں پہ ہنستے رہے
خود خوشی کے لیے ترستے رہے
رات بھر تیری یاد کے بادل
میرے کمرے ہی میں برستے رہے
سانپ پالے جو آستینوں میں
عمر بھر خود مجھے ہی ڈستے رہے
مہہگی انسانیت ہے دنیا میں
آدمی تو ہمیشہ سستے رہے
جن پہ ہم نے بچھائے تھے کل پھول
کتنے پُر خار وہ ہی رستے رہے
اب تو ملتا نہیں ہے عکس ان کا
بن کے دھڑکن جو دل میں بستے رہے
لبنیٰ عکس
No comments:
Post a Comment