Wednesday, 1 December 2021

نظر کے آئینے پر دیر تک منظر نہیں ہوتا

 نظر کے آئینے پر دیر تک منظر نہیں ہوتا

اگر پتھر تمہارا ہو تو پھر پتھر نہیں ہوتا

خرامِ آب و گل دل میں یہ موجوں کی روانی دیکھ

پلٹ کر آ ملے دریا سے جو ساگر نہیں ہوتا

نظر کے سامنے جیسے ستارے رقص کرتے ہیں

جو تو ہو آئینہ تو دیر تک پتھر نہیں ہوتا

حوادث کے ستارے ہوں کہ ہاتھوں میں کوئی پتھر

پرکھنے سے کوئی موتی کبھی کنکر نہیں ہوتا

گراں یابی محبت کی ابھی کم ہے بچا رکھیو

محبت میں کوئی پتھر کبھی پتھر نہیں ہوتا

بجز دیوانگی چارہ گری کیا ہو محبت میں

کبھی جادو نہیں چلتا کبھی منتر نہیں ہوتا

کلاہِ خسروی ہم ہیں متاعِ حسن دو عالم

کہ اک دنیا ہے پہلو میں وہی کافر نہیں ہوتا

اماں رگ رگ غمِ جاں سے لہو ٹپکے نہ پھر عامر

کہ اس برگِ حنا کے ہاتھ میں خنجر نہیں ہوتا


عامر یوسف

No comments:

Post a Comment