Wednesday, 1 December 2021

رونق فروغ درد سے کچھ انجمن میں ہے

 رونق فروغ درد سے کچھ انجمن میں ہے

خون جگر غریب کا ہر بانکپن میں ہے

دیوانہ زندگانی کا دیتا ہے یوں ثبوت

باہر لحد سے ہے کبھی خونیں کفن میں ہے

دل کے لہو سے روح کی ہوتی ہے پرورش

معراج آگہی کی وفور محن میں ہے

ہر بوند نوک کلک کی دیتی ہے درس ہوش

کونین کا سراغ بھی بطن سخن میں ہے

دو یک نفس ہے خیمۂ گل کا فریب رنگ

عبرت فروش خار بھی صحن چمن میں ہے

آفاق ساز مذہب ایثار پھر سے ڈھونڈ

اک لعل شب چراغ بھی طاق کہن میں ہے

اخلاص دل کا رحمت باری سے کر طلب

روشن چراغ عدل کہاں انجمن میں ہے

بوزر کا فقر حضرت فاروقؓ کا مزاج

اصنام ساز قوم کے شیخ زمن میں ہے

سوداگری سے مانا کہ حاصل ہے کچھ وقار

سامان مفسدات بھی تزئین تن میں ہے

عصر رواں کے لوگ ہیں آوارگی پسند

فتنہ بھی حرص و آز کا خضر زمن میں ہے

شبنم سے پنکھڑی بھی سلگتی ہے پھول کی

نیرنگئ خزاں بھی بہار چمن میں ہے

فیضان ارتقا سے جنازہ خلوص کا

خیرالامم کے دوش پہ شہر زمن میں ہے

جمہوریت بھی طرفہ تماشہ کا کس قدر

لوح و قلم کی جان ید اہرمن میں ہے

اس افترا پہ دیجئے کچھ مفتری کو داد

جنت اگر کہیں ہے تو میرے وطن میں ہے

جانے کسے نصیب ہو ببیاک آگہی

ناقد جدید دور کا تخمین و ظن میں ہے


بیباک بھوجپوری

No comments:

Post a Comment