میں سوچتی ہوں تم سے ملاقات تو کروں
جو رہ گئی ادھوری وہ بات تو کروں
میں گھر کی ڈیوڑھی پہ چراغِ وفا رکھوں
پھولوں کی تم پہ جاناں برسات تو کروں
اب میرے گھر پہ کوئی آتا بھی تو نہیں
تم کو بلانے جیسے حالات تو کروں
سولہ سنگھار کر کے میں تم سے جب ملوں
کچھ کچھ پرانے جیسے جذبات تو کروں
نہ تم کرو شکایت، شکوہ نہ کروں میں
اب زندگی میں ایسی اک رات تو کروں
تم سے قدم ملا کے چلنا تو چاہتی ہوں
پر میں تمہارے جیسی عادات تو کروں
اک تاج محل میرا بھی عکس بنے گا
میں اپنی جان تم کو سوغات تو کروں
لبنیٰ عکس
No comments:
Post a Comment