Sunday, 25 April 2021

غم کا شاہکار کر دیا گیا ہوں

غم کا شاہکار کر دیا گیا ہوں 

خُود سے بیزار کر دیا گیا ہوں 

مجھ کو کرنا تھی زیست ایک زقند

مرحلہ وار کر دیا گیا ہوں

صبحِ فردا نے بھینٹ لے لی ہے 

حاصلِ دار کر دیا گیا ہوں

سارے قصے میں جس کا ذکر نہیں

ایسا کردار کر دیا گیا ہوں

باریابی کی چاہ بڑھ گئی ہے

جب سے انکار کر دیا گیا ہوں

ایک مُدت رہا سخن کا سفیر

آج سالار کر دیا گیا ہوں 


ڈاکٹر مدثر جاوید ملک

No comments:

Post a Comment