Sunday, 25 April 2021

اجنبی ہو کے بات کیوں کرتی

 اجنبی ہو کے بات کیوں کرتی

تنگ مجھ کو حیات کیوں کرتی

تم جو ہوتے تو زندگی ہم سے

تلخ لہجے میں بات کیوں کرتی

منتشر کر کے دل کی بستی کو

مسکرانے کی بات کیوں کرتی

حق ہمارا بھی گر خوشی پر تھا

دن ہمارے وہ رات کیوں کرتی

زندگی، جان سے گزرنے پر

آزمائش کی بات کیوں کرتی

زخم گر دل کے بھر گئے ہوتے

پھر نمائش کی بات کیوں کرتی

وہ محبت کا گر سمندر تھی

بوند بھر التفات کیوں کرتی

فکر اس کو اگر مِری ہوتی

دور جانے کی بات کیوں کرتی

میرے نادار دل کے حصے میں

غم کے لمحے ثبات، کیوں کرتی

تم نہ جاتے تو زندگی کاشف

رنج اور غم کی بات کیوں کرتی


سید کاشف

No comments:

Post a Comment