Sunday, 25 April 2021

بچے کا ہاتھ جا نہ سکا آسمان پر

 بچے کا ہاتھ جا نہ سکا آسمان پر

گویا مہ و نجوم سجے تھے دکان پر

گندم کی فصل کٹ کے ابھی گھر میں آئی ہے

دستِ سوال ٹوٹ پڑے ہیں کسان پر

یہ بھی ہے رسمِ کوچۂ جاناں کہ عُمر بھر

عرضِ وفا کا نام نہ آئے زبان پر

صدیوں کی واردات ہے اک اک کٹاؤ میں

لمحوں نے داستان لِکھی ہے چٹان پر

تحریکِ رفتگاں کا کہیں ذکر تک نہیں

الزام گُمرہی کا ہے پس ماندگان پر

شعلے اٹھے تو شِیش محل جگمگا اٹھا

بجلی گِری تھی ایک شکستہ مکان پر

خوبانیوں کا پیڑ پڑوسی کے گھر میں ہے

پتھر برس رہے ہیں مِرے سائبان پر

اشعر درازئ شبِ ہجراں کی خیر ہو

وہ شخص تُل گیا ہے مِرے امتحان پر


علی مطہر اشعر

No comments:

Post a Comment