Sunday, 25 April 2021

بہاروں کی طرح در بولتا ہے

 بہاروں کی طرح در بولتا ہے

کوئی آ جائے تو گھر بولتا ہے

کبھی دیتا ہے نامہ بر بھی دستک

کبھی چھت پر کبوتر بولتا ہے

یہ دریا پیڑ پودے اور جھرنے

ہر اک وادی کا منظر بولتا ہے

تراشا ہے اسے میں نے ہنر سے

مِرے ہاتھوں کا پتھر بولتا ہے

ادب والے سخن کہتے ہیں اس کو

یہ جادو سر پہ چڑھ کر بولتا ہے

تپایا ہے بہت محنت سے اس کو

یہ سونا بھی نکھر کر بولتا ہے

جہاں سے ہاتھ خالی جائیں گے سب

یہ اک جملہ سکندر بولتا ہے

سفارش کا بھروسہ بھی نہیں ہے

مگر پیسہ برابر بولتا ہے

نظیرؔ میرٹھی ہو بات کڑوی

تو گونگا بھی پلٹ کر بولتا ہے


نظیر میرٹھی

No comments:

Post a Comment