میں اس چراغ کی لو بھی بجھائے دیتا ہوں
غزل کہی ہے تمہیں بھی سنائے دیتا ہوں
وہ دیکھو صبح میری کھڑکیوں سے آتی ہے
میں اس لیے یہ ستارے بجھائے دیتا ہوں
مجھے نشاط پہ اکساتی ہے ہوائے بہار
بساط ایک جمائی ہے چاند تاروں نے
شبِ فراق اسے بھی اٹھائے دیتا ہوں
چراغِ شام! ہوا ہے بہت نشاط انگیز
میں تیرے سائے میں سورج چھپائے دیتا ہوں
جمیل قمر
No comments:
Post a Comment