Saturday, 5 November 2016

میں اس چراغ کی لو بھی بجھائے دیتا ہوں

میں اس چراغ کی لو بھی بجھائے دیتا ہوں
غزل کہی ہے تمہیں بھی سنائے دیتا ہوں
وہ دیکھو صبح میری کھڑکیوں سے آتی ہے
میں اس لیے یہ ستارے بجھائے دیتا ہوں
مجھے نشاط پہ اکساتی ہے ہوائے بہار
تو میں بہار کا دامن جلائے دیتا ہوں
بساط ایک جمائی ہے چاند تاروں نے
شبِ فراق اسے بھی اٹھائے دیتا ہوں
چراغِ شام! ہوا ہے بہت نشاط انگیز
میں تیرے سائے میں سورج چھپائے دیتا ہوں

جمیل قمر

No comments:

Post a Comment