Sunday, 5 September 2021

اب کے محفل جو گاؤں میں ہو گی

 اب کے محفل جو گاؤں میں ہو گی

نعت تاروں کی چھاؤں میں ہو گی

تم بہارِ درود مہکاؤ

سبز رنگت خزاؤں میں ہو گی

جارہا ہوں سوئے مدینہ میں

اب خجالت نہ پاؤں میں ہو گی

ہاتھ اٹھیں گے ان کے روضے پر

کتنی طاقت دعاؤں میں ہو گی

پھول مدحت کا لب پہ جاگا ہے

کوئی تتلی ہواؤں میں ہو گی

استغاثہ مراد پائے گا

خامشی بھی صداؤں میں ہو گی

نعرۂ پنجتن لگائیں گے

ناؤ خود ناخداؤں میں ہو گی


جاوید عادل سوہاوی

No comments:

Post a Comment