اب کے محفل جو گاؤں میں ہو گی
نعت تاروں کی چھاؤں میں ہو گی
تم بہارِ درود مہکاؤ
سبز رنگت خزاؤں میں ہو گی
جارہا ہوں سوئے مدینہ میں
اب خجالت نہ پاؤں میں ہو گی
ہاتھ اٹھیں گے ان کے روضے پر
کتنی طاقت دعاؤں میں ہو گی
پھول مدحت کا لب پہ جاگا ہے
کوئی تتلی ہواؤں میں ہو گی
استغاثہ مراد پائے گا
خامشی بھی صداؤں میں ہو گی
نعرۂ پنجتن لگائیں گے
ناؤ خود ناخداؤں میں ہو گی
جاوید عادل سوہاوی
No comments:
Post a Comment