Sunday, 5 September 2021

دیار قدس وفا میں حسین کی خوشبو

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


دیارِ قُدسِ وفا میں حسینؑ کی خوشبو

رضائے حکم خدا میں حسین کی خوشبو

قبولیت کے گلوں کو سمیٹ لاتی ہے

ہتھیلیوں کی دعا میں حسین کی خوشبو

کبھی وہ گود میں کھیلیں وہ دوش پر بیٹھیں

نبیﷺ کی بوئے قبا میں حسین کی خوشبو

قبولیت کا ہر اک باب کھول دیتی ہے

لبوں کی پاک دعا میں حسین کی خوشبو

صداقتوں کا دلاتی ہوئی ہمیں احساس

بوقتِ ظہر ندا میں حسین کی خوشبو

پڑھا ہے ہم نے کتابوں میں سالکوں کے بقول

کہ ہے فنا و بقا میں حسین کی خوشبو

رچی بسی ہوئی محسوس ہو رہی ہے ہمیں

ردائے ارض و سما میں حسین کی خوشبو

صداقتوں پہ شہادت کا درس دیتی ہوئی 

فضائے شہرِ وفا میں حسین کی خوشبو

دلاسے دیتی ہے زینب کے آنسو پونچھتی ہے

بکھر کے دشتِ بلا میں حسین کی خوشبو

مہک مہک اٹھے اشعار سب تِرے مسرور

بسی ہے تیری نوا میں حسین کی خوشبو


انس مسرور

No comments:

Post a Comment