Monday, 6 September 2021

جان نہیں پہچان نہیں ہے

 جان نہیں پہچان نہیں ہے

پھر بھی تو وہ انجان نہیں ہے

ہر غم سہنا اور خوش رہنا

مشکل ہے آسان نہیں ہے

دل میں جو مر جائے وہ ہے ارماں

جو نکلے، ارمان نہیں ہے

مجھ کو خوشی یہ ہے کہ خوشی کا

مجھ پہ کوئی احسان نہیں ہے

اب نہ دکھانا تابشِ جلوہ

اب آنکھوں میں جان نہیں ہے

سب کچھ ہے اس دورِ ہوس میں

دل کا اطمینان نہیں ہے

اب کے وقار ایسے بچھڑے ہیں

ملنے کا امکان نہیں ہے


وقار مانوی

No comments:

Post a Comment