Monday, 6 September 2021

ہم ابھی پکے اداکار نہیں ہیں بھائی

 ہم ابھی پکے اداکار نہیں ہیں بھائی

اس لیے لائقِ دستار نہیں ہیں بھائی

یہ جو ہر روز کا رونا ہے ہمارا رونا

ہم محبت میں سمجھدار نہیں ہیں بھائی

اس لیے گھر میں کوئی رکھا نہ تھا دروازہ

میں سمجھتا تھا کہ دیوار نہیں ہیں بھائی

مجھ میں جاری ہے مسلسل یہ جو دریائے شکیب

جون کے روزے بھی دشوار نہیں ہیں بھائی

خونخواری بھی بھروسے سے جنم لیتی ہے

شکر کرتا ہوں کہ غمخوار نہیں ہیں بھائی

تم یہاں آنے کا اک بار ارادہ تو کرو

مسئلے اتنے بھی دشوار نہیں ہیں بھائی

بیچ میں آئے ہیں جس دن سے پرائے رشتے

بات بھی کرنے کو تیار نہیں ہیں بھائی


جاوید عادل سوہاوی

No comments:

Post a Comment