Monday, 6 September 2021

گرچہ تنہائی کے آسیب سے ڈر لگتا ہے

 گرچہ تنہائی کے آسیب سے ڈر لگتا ہے

پھر بھی اچھا مجھے اپنا ہی یہ گھر لگتا ہے

اس نے ایسے ہی نہیں جان بھی واری تم پر

سر کے سودے میں تو سنتے ہیں کہ سر لگتا ہے

جانے اب کون سی بستی سے گزر ہے میرا

جس کو دیکھا ہے وہی محوِ سفر لگتا ہے

وہ تمہیں خاک بتائے گا سمندر کیا ہے

جس کو دریا کا کنارہ بھی بھنور لگتا ہے 

کون بولے گا تِرے ظلم کے آگے آخر

شہر کا شہر تِرے زیرِ اثر لگتا ہے

یہ کرشمہ ہے تِرے حسن کا اے ہوشربا

تیرا ہر عیب بھی لوگوں کو ہنر لگتا ہے


کاشف سجاد

No comments:

Post a Comment