گرچہ تنہائی کے آسیب سے ڈر لگتا ہے
پھر بھی اچھا مجھے اپنا ہی یہ گھر لگتا ہے
اس نے ایسے ہی نہیں جان بھی واری تم پر
سر کے سودے میں تو سنتے ہیں کہ سر لگتا ہے
جانے اب کون سی بستی سے گزر ہے میرا
جس کو دیکھا ہے وہی محوِ سفر لگتا ہے
وہ تمہیں خاک بتائے گا سمندر کیا ہے
جس کو دریا کا کنارہ بھی بھنور لگتا ہے
کون بولے گا تِرے ظلم کے آگے آخر
شہر کا شہر تِرے زیرِ اثر لگتا ہے
یہ کرشمہ ہے تِرے حسن کا اے ہوشربا
تیرا ہر عیب بھی لوگوں کو ہنر لگتا ہے
کاشف سجاد
No comments:
Post a Comment