یہ زندگی تو بہت کم ہے دوستی کے لیے
کہاں سے وقت نکلتا ہے دشمنی کے لیے
یہ آتی جاتی ہوئی سانس زندگی کے لیے
اک امتحان مسلسل ہے آدمی کے لیے
یہ عہدِ نو کا اندھیرا، ارے معاذ اللہ
ترس رہے ہیں چراغ اپنی روشنی کے لیے
انہیں گلوں کا تبسم تو دیکھ لینے دو
تمام عمر جو ترسا کئے ہنسی کے لیے
یہ اہل ہوش مِرے راستے سے ہٹ جائیں
بہت ہے میرا جنوں میری رہبری کے لیے
کوئی رکے کہ چلے گر پڑے کہ تھک جائے
گزرتا وقت ٹھہرتا نہیں کسی کے لیے
کسے خبر تھی کہ جل جائے گا چمن شارب
چراغ ہم نے جلائے تھے روشنی کے لیے
شارب لکھنوی
No comments:
Post a Comment