Monday, 6 September 2021

یہ زندگی تو بہت کم ہے دوستی کے لیے

 یہ زندگی تو بہت کم ہے دوستی کے لیے

کہاں سے وقت نکلتا ہے دشمنی کے لیے

یہ آتی جاتی ہوئی سانس زندگی کے لیے

اک امتحان مسلسل ہے آدمی کے لیے

یہ عہدِ نو کا اندھیرا، ارے معاذ اللہ

ترس رہے ہیں چراغ اپنی روشنی کے لیے

انہیں گلوں کا تبسم تو دیکھ لینے دو

تمام عمر جو ترسا کئے ہنسی کے لیے

یہ اہل ہوش مِرے راستے سے ہٹ جائیں

بہت ہے میرا جنوں میری رہبری کے لیے

کوئی رکے کہ چلے گر پڑے کہ تھک جائے

گزرتا وقت ٹھہرتا نہیں کسی کے لیے

کسے خبر تھی کہ جل جائے گا چمن شارب

چراغ ہم نے جلائے تھے روشنی کے لیے


شارب لکھنوی

No comments:

Post a Comment