Wednesday, 2 February 2022

وہ آئے گا کہ آنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

 وہ آئے گا کہ آنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

بھرم ہے ٹوٹ جانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

دِیا محفوظ کر لو تاک میں ظالم ہوا بیٹھی

کہ اپنا گھر جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

ذرا محتاط رہنا آہ سے بھی ٹوٹ جاتا ہے

کسی کا دل دُکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

شکستہ سانس تک الفت کو سینے سے لگا رکھنا

یہاں میّت اُٹھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

محبت آزمانے میں تو صدیاں بیت جاتی ہیں

محبت ٹوٹ جانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

اسے اپنا بنانے میں ہوں اپنا آپ کھو بیٹھا

سنا تو تھا منانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

کُھلی زلفیں کبھی دستِ حنا چادر کبھی سرکی

اُسے چہرہ چُھپانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

سبیلِ اشک سے لکھو دلیلِ آہ شیدا جی

غزل کو داد پانے میں ذراـسی دیر لگتی ہے


علی شیدا

No comments:

Post a Comment