اپنے ہی دشتِ خاک میں بکھرا ہوا تھا میں
پانی، ہوا سے، آگ سے گزرا ہوا تھا میں
منظر تمام آنکھ کی جُنبش پہ تھے مِری
گردش میں کائنات تھی ٹھہرا ہوا تھا میں
اپنی سیاہ دُھند کے سب دائرے لیے
اک روشنی کے غار میں پھیلا ہوا تھا میں
کام آئی اس کے بعد کوئی جستجو نہیں
اس رات کھو گیا تھا کہ اپنا ہوا تھا میں
جس کا ہوا تھا عمر بھلانے لگی اسے
اب کر رہا ہوں یاد کہ کس کا ہوا تھا میں
پھر آئینے کی آنکھ میں غائب ہوا وہ عکس
اپنا ہی ایک بار جو چہرہ ہوا تھا میں
زخموں کو پالا شوق سے شیدا جو ہجر کے
آخر انہی کے درد سے اچھا ہوا تھا میں
علی شیدا
No comments:
Post a Comment