ایک خواب کے خیال میں مارے گئے ہیں ہم
کس بے بسی کے حال میں مارے گئے ہیں ہم
لہجے سے لگ رہا تھا، وہ میرا نہیں رہا
اس بات کے ملال میں مارے گئے ہیں ہم
کچھ اپنی سادگی تھی کچھ اس کا ہنر بھی تھا
کتنی پرانی چال میں مارے گئے ہیں ہم
ناکامیاں ازل سے مقدر نہیں رہیں
خوش بختیوں کے سال میں مارے گئے ہیں ہم
شاید کوئی جواب بنایا نہ جا سکا
شاید کسی سوال میں مارے گئے ہیں ہم
انوار فیروز
No comments:
Post a Comment