Tuesday, 7 September 2021

ایک خواب کے خیال میں مارے گئے ہیں ہم

 ایک خواب کے خیال میں مارے گئے ہیں ہم

کس بے بسی کے حال میں مارے گئے ہیں ہم

لہجے سے لگ رہا تھا، وہ میرا نہیں رہا

اس بات کے ملال میں مارے گئے ہیں ہم

کچھ اپنی سادگی تھی کچھ اس کا ہنر بھی تھا

کتنی پرانی چال میں مارے گئے ہیں ہم

ناکامیاں ازل سے مقدر نہیں رہیں

خوش بختیوں کے سال میں مارے گئے ہیں ہم

شاید کوئی جواب بنایا نہ جا سکا

شاید کسی سوال میں مارے گئے ہیں ہم


انوار فیروز

No comments:

Post a Comment