میں پتے ہاتھ سے تھاموں تو شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں
جو تم سے بات کرتی ہوں تو باتیں ٹوٹ جاتی ہیں
محبت کے یہ رشتے دھڑکنوں کے ساتھ ہوتے ہیں
کہ دل کا روگ لگنے سے یہ سانسیں ٹوٹ جاتی ہیں
جو دن بھر کی مسافت بعد یہ چاہا کہ سو جاؤں
ذرا سی آنکھ کیا لگتی ہے راتیں ٹوٹ جاتی ہیں
زمین و آسماں کا فرق تو حدِ نظر کا ہے
کہاں تک باندھ پاؤ گے یہ ذاتیں ٹوٹ جاتی ہیں
مِری سوچوں پہ پہرے کیا بٹھائیں گے جہاں والے
کہ فرحت قید کرتے ہی سلاخیں ٹوٹ جاتی ہیں
آئرین فرحت
No comments:
Post a Comment