Tuesday, 7 September 2021

میں پتے ہاتھ سے تھاموں تو شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں

 میں پتے ہاتھ سے تھاموں تو شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں

جو تم سے بات کرتی ہوں تو باتیں ٹوٹ جاتی ہیں

محبت کے یہ رشتے دھڑکنوں کے ساتھ ہوتے ہیں

کہ دل کا روگ لگنے سے یہ سانسیں ٹوٹ جاتی ہیں

جو دن بھر کی مسافت بعد یہ چاہا کہ سو جاؤں

ذرا سی آنکھ کیا لگتی ہے راتیں ٹوٹ جاتی ہیں

زمین و آسماں کا فرق تو حدِ نظر کا ہے

کہاں تک باندھ پاؤ گے یہ ذاتیں ٹوٹ جاتی ہیں 

مِری سوچوں پہ پہرے کیا بٹھائیں گے جہاں والے

کہ فرحت قید کرتے ہی سلاخیں ٹوٹ جاتی ہیں


آئرین فرحت

No comments:

Post a Comment