Sunday, 19 September 2021

بند مٹھی میں چال رکھتا ہوں

 تاش پتے کمال رکھتا ہوں

بند مٹھی میں چال رکھتا ہوں

دشت ماضی میں گھومتے رہنا

پا بہ زنجیرِ حال رکھتا ہوں

وہ کہاں کے یقین تک آئے

میں کہ جس کا خیال رکھتا ہوں

عکس تقسیم کیا کریں چھوڑو

آئینے پر ہی بال رکھتا ہوں

ہے جو دیوار میں دراڑ آئی

اس میں اپنا زوال رکھتا ہوں

توڑ کر لو گمان کے پیکر

جوڑ کر خد و خال رکھتا ہوں

ان مثالوں سے کیا کُھلے منظر

آنکھ میں بے مثال رکھتا ہوں

عمر کو چھان کر علی شیدا

درد کے ماہ وسال رکھتا ہوں


علی شیدا

No comments:

Post a Comment