تاش پتے کمال رکھتا ہوں
بند مٹھی میں چال رکھتا ہوں
دشت ماضی میں گھومتے رہنا
پا بہ زنجیرِ حال رکھتا ہوں
وہ کہاں کے یقین تک آئے
میں کہ جس کا خیال رکھتا ہوں
عکس تقسیم کیا کریں چھوڑو
آئینے پر ہی بال رکھتا ہوں
ہے جو دیوار میں دراڑ آئی
اس میں اپنا زوال رکھتا ہوں
توڑ کر لو گمان کے پیکر
جوڑ کر خد و خال رکھتا ہوں
ان مثالوں سے کیا کُھلے منظر
آنکھ میں بے مثال رکھتا ہوں
عمر کو چھان کر علی شیدا
درد کے ماہ وسال رکھتا ہوں
علی شیدا
No comments:
Post a Comment