بوئے وفا نہ مل سکی ہم کو گلاب میں
رکھا اسی لیے نہ کوئی گل کتاب میں
کیونکر کتابِ زیست سے اے دل گلہ کریں
جب گل محبتوں کا نہیں ہے نصاب میں
افسانۂ حیات کی تکمیل کر گئے
کچھ غم غمِ حیات کے آ کر نصاب میں
ہم سے حساب مانگتے ہو تم وفاؤں کا
دیں گے حساب فائدہ ہے احتساب میں
کچھ ہم نے خار چن لیے پھولوں کے درمیاں
کچھ تم نے خار بو دئیے دل کی کتاب میں
تاخیر تم سے ہو گئی ہم سے سوال میں
کچھ ہم نے دیر کر دی ہے بیشک جواب میں
شکوہ گلہ نہ کرتے تو بہتر تھا شازیہ
کٹتی تمام عمر نہ یوں اضطراب میں
شازیہ طارق
No comments:
Post a Comment