Sunday, 19 September 2021

بوئے وفا نہ مل سکی ہم کو گلاب میں

 بوئے وفا نہ مل سکی ہم کو گلاب میں

رکھا اسی لیے نہ کوئی گل کتاب میں

کیونکر کتابِ زیست سے اے دل گلہ کریں

جب گل محبتوں کا نہیں ہے نصاب میں

افسانۂ حیات کی تکمیل کر گئے

کچھ غم غمِ حیات کے آ کر نصاب میں

ہم سے حساب مانگتے ہو تم وفاؤں کا

دیں گے حساب فائدہ ہے احتساب میں

کچھ ہم نے خار چن لیے پھولوں کے درمیاں

کچھ تم نے خار بو دئیے دل کی کتاب میں

تاخیر تم سے ہو گئی ہم سے سوال میں

کچھ ہم نے دیر کر دی ہے بیشک جواب میں

شکوہ گلہ نہ کرتے تو بہتر تھا شازیہ

کٹتی تمام عمر نہ یوں اضطراب میں


شازیہ طارق

No comments:

Post a Comment