Sunday, 19 September 2021

پرند پانی دیے تک کلام کر چکے ہیں

 پرند، پانی، دِیے تک کلام کر چُکے ہیں

ہمیں تو پیڑ بھی جُھک کر سلام کر چکے ہیں

صدائیں آنے لگِیں؛ تم بھی آؤ، بسم اللہ

یہاں تو جِن و ملک بھی قیام کر چکے ہیں

کُھلا یہ سات چراغوں کی چہ مگوئی سے

کہ رفتگاں یہ کھنڈر مِیرے نام کر چکے ہیں

طلاق یافتہ دنیا! تُو اب قریب نہ آ

ہم اہلِ فقر یہ قصہ تمام کر چکے ہیں

اب ان کے سامنے سُورج کی طرح جلنا ہے

ہم آندھیوں کا بہت احترام کر چکے ہیں

نوید! میرا عمامہ اتار کر سر سے

یہ شہر والے مِرے قتلِ عام کر چکے ہیں


نوید حیدر ہاشمی

No comments:

Post a Comment