ابر برسا ہے نہ جانے کس لیے
پھول مہکا ہے نہ جانے کس لیے
رہروانِ شوق رُخصت ہو گئے
چاند نکلا ہے نہ جانے کس لیے
جب تمہاری آرزو باقی نہیں
دل دھڑکتا ہے نہ جانے کس لیے
اس قدر شِدت نہیں تھی طنز میں
گھاؤ گہرا ہے نہ جانے کس لیے
کیا کہیں کیفیت تنویر ہم
شعر کہتا ہے نہ جانے کس لیے
محمد تنویرالزماں
No comments:
Post a Comment