Sunday, 19 September 2021

ابر برسا ہے نہ جانے کس لیے

ابر برسا ہے نہ جانے کس لیے

پھول مہکا ہے نہ جانے کس لیے

رہروانِ شوق رُخصت ہو گئے

چاند نکلا ہے نہ جانے کس لیے

جب تمہاری آرزو باقی نہیں

دل دھڑکتا ہے نہ جانے کس لیے

اس قدر شِدت نہیں تھی طنز میں

گھاؤ گہرا ہے نہ جانے کس لیے

کیا کہیں کیفیت تنویر ہم

شعر کہتا ہے نہ جانے کس لیے


محمد تنویرالزماں

No comments:

Post a Comment