Monday, 6 September 2021

دھوپ کو پہن لیا آفتاب کی طرح

 دھوپ کو پہن لیا آفتاب کی طرح

اوڑھ لی ہے چاندنی ماہتاب کی طرح

ایک لمحہ وصل کا یاد سے نکال کر

آنکھ میں چُھپا لیا ایک خواب کی طرح

آئینوں کو توڑ کر عکس عکس جوڑ کر

سامنے ہے رکھ دیا انتخاب کی طرح

تشنگی کے دشت میں حیرتی کی ریت پر

اک سوال کھو گیا اک جواب کی طرح

ہاتھ مت لگا مجھے دھول ہوں پرت پرت

میں ہوں طاق پر پڑی اک کتاب کی طرح

ہاو ہو کے شہر میں پھیلتا ہوں خامشی

دُھند ہوں دُھواں دُھواں یا سراب کی طرح

کانچ کے مدار سے باہر آ گیا ہوں کیا

گِر رہا ہوں ٹُوٹ کر یوں شہاب کی طرح

جی رہا ہوں مان کر شیدا سُکھ کی زندگی

پی رہا ہوں درد و غم دُکھ شراب کی طرح


علی شیدا

No comments:

Post a Comment