دھوپ کو پہن لیا آفتاب کی طرح
اوڑھ لی ہے چاندنی ماہتاب کی طرح
ایک لمحہ وصل کا یاد سے نکال کر
آنکھ میں چُھپا لیا ایک خواب کی طرح
آئینوں کو توڑ کر عکس عکس جوڑ کر
سامنے ہے رکھ دیا انتخاب کی طرح
تشنگی کے دشت میں حیرتی کی ریت پر
اک سوال کھو گیا اک جواب کی طرح
ہاتھ مت لگا مجھے دھول ہوں پرت پرت
میں ہوں طاق پر پڑی اک کتاب کی طرح
ہاو ہو کے شہر میں پھیلتا ہوں خامشی
دُھند ہوں دُھواں دُھواں یا سراب کی طرح
کانچ کے مدار سے باہر آ گیا ہوں کیا
گِر رہا ہوں ٹُوٹ کر یوں شہاب کی طرح
جی رہا ہوں مان کر شیدا سُکھ کی زندگی
پی رہا ہوں درد و غم دُکھ شراب کی طرح
علی شیدا
No comments:
Post a Comment