سفر تو ہے، ہمسفر نہیں ہے
یہاں جدائی کا ڈر نہیں ہے
تمہارا دل ہے قفس کے جیسا
قفس بھی وہ جس میں در نہیں ہے
جس میں ہم تم بہت اکیلے
مکاں تو ہے وہ گھر نہیں ہے
ہے میرا سایہ ہی ساتھ میرے
کوئی رفیقِ سفر نہیں ہے
نہ دوست ہے نہ حبیب کوئی
اکیلا پن بھی مگر نہیں ہے
نہ اس کو صحرا میں دو صدائیں
اب یہ صدا معتبر نہیں ہے
مجھے گِرانے کی فکر میں ہے
خدا کا بھی اس کو ڈر نہیں ہے
ہے دل میں تیرے حسد کی آتش
ہمارے دل پر اثر نہیں ہے
خیال رکھتا میرا بے حد
وہ میرا اپنا مگر نہیں ہے
جو میرے دل میں بسا لوگو
کسی کو اس کی خبر نہیں ہے
ولا کی شاہی ہے اپنے دل پر
وہ کوئی ملکہ اگر نہیں ہے
ولاء جمال العسیلی
No comments:
Post a Comment