پھول صحرا میں کھلائیں گے چلے جائیں گے
خواب کو خواب دکھائیں گے چلے جائیں گے
روزِ محشر کی ہمیں فکر نہیں، ہم تو وہاں
زخم سینے پہ سجائیں گے چلے جائیں گے
جس کو آنا ہے تو اک شب کی ہے مہلت ورنہ
ہم چراغوں کو بجھائیں گے، چلے جائیں گے
مرکزِ عشق کی توہین پر عشاق یہاں
شہر میں شور مچائیں گے چلے جائیں گے
میرے پہلو میں جو بیٹھے ہیں مسیحا بن کر
دردِ دل میرا بڑھائیں گے، چلے جائیں گے
لے کے میراث جو مجنوں کی نکل آئے ہیں
ہجر کا دشت بسائیں گے، چلے جائیں گے
کیا خبر شمس ہمیں مقصدِ تخلیق ہے کیا؟
ہم بھی روداد سنائیں گے چلے جائیں گے
شمس بلتستانی
No comments:
Post a Comment