Monday, 6 September 2021

خواب زدہ ویرانوں تک

 خواب زدہ ویرانوں تک

پہنچی نیند ٹھکانوں تک

آوازوں کے دریا میں

غرق ہوئے ہیں شانوں تک

باغ، اثاثہ ہے اپنا

وہ بھی زرد زمانوں تک

بنچ پہ پھیلی خاموشی

پہنچی پیڑ کے کانوں تک

عشق عبادت کرتے لوگ

جاگیں روز اذانوں تک


مبشر سعید

No comments:

Post a Comment