Monday, 6 September 2021

محبت یاد کی خوشبو

 محبت یاد کی خوشبو


محبت یاد کی خوشبو

طنابیں کھینچ کر میری

مجھے مجبور کرتی ہے

بہت رنجور کرتی ہے

کبھی نزدیک لے آتی ہے شہ رگ سے

کبھی یک لخت خود سے دور کرتی ہے

محبت زندگانی ہے

یہ جاں لیتی ہے اجرت میں

جلاتی ہے مگر پرنور کرتی ہے

محبت چھپ نہیں سکتی

یہ جس کے دل میں پیدا ہو اسے مشہور کرتی ہے

محبت اپنے فرزانوں کو بھاتی ہے

سفر کی جوت آنکھوں میں جگاتی ہے

نئے رستے دکھاتی ہے

محبت ہے خماری بھی محبت بے قراری بھی

کبھی بنتی ہے خوابوں کا سفر ہر دم

کبھی بیدار کرتی ہے

کبھی ذہنی اذیت سے مجھے دوچار کرتی ہے

محبت ذہن کی آلائشوں کو پاک کرتی ہے

کلیجے چاک کرتی ہے

دلِ کج فہم کی ہر کج روی کو خاک کرتی ہے

حیاداری کبھی بخشے کبھی بے باک کرتی ہے

کبھی تعمیر کرتی ہے کبھی مسمار کرتی ہے

کبھی مرہم لگاتی ہے کبھی افگار کرتی ہے

کبھی تخلیق کرتی ہے کبھی ترمیم کرتی ہے

کبھی ضربیں لگاتی ہے کبھی تقسیم کرتی ہے

اسی کی بات کرتی ہے

اسی کا نام لیتی ہے

اگر گرنے لگے کوئی

محبت تھام لیتی ہے

محبت زندگانی کی حقیقت ہے

یہ سارا کائناتی حسن بھی مرہونِ منت ہے محبت کا


حنا عنبرین

No comments:

Post a Comment