Monday, 6 September 2021

ضیائے رنگ بھی کچھ تو دوستی کرو یار

 ضیائے رنگ بھی کچھ تو دوستی کرو یار

بہت اندھیرا ہے کمرے میں روشنی کرو یار

یہاں فراغتیں بارِ گراں ہیں رشتوں پر

قرابتوں کا تقاضا ہے نوکری کرو یار

بھرم نگاہ میں رکھو وقار قامت کا

بڑا ہے ظرف تو پھر بات بھی بڑی کرو یار

چہکتی شب میں خموشی اداس جنگل ہے

لبوں کے پھول مہکنے دو بات بھی کرو یار

جہاں بلائے فنا گھات میں کھڑی ہے وہاں

یہ چار سانسیں غنیمت ہیں زندگی ہیں کرو یار

پیام لکھو محبت سے، اور بھیجو اسے

بڑا حسین ہے یہ کام اسے ابھی کرو یار

طلسم فکر سے آگے ہیں عشرتیں عادل

یہ قید خانہ گِرا ڈالو، زندگی کرو یار


جاوید عادل سوہاوی

No comments:

Post a Comment