زمین
آخر میری بوڑھی آنکھیں
لاشوں کے انبار پہ کب تک بین کریں
تم لوگوں سے اک دُکھیاری کہتی ہے
تم جس بھی خدا کو مانتے ہو
اس کے نام پہ
بس کر دو
اب بس بھی کر دو
اپنی جان پہ کھیل کے تم یہ سمجھتے ہو
جنت اپنے نام کرا لی
بھول سراسر، خام خیالی، خوش فہمی ہے
جنت ایسے کب ملتی ہے؟
میرے جیسی ماؤں کے اے بِگڑے بچو
آخر تم کب سُدھرو گے
شبیر نازش
No comments:
Post a Comment