Monday, 6 September 2021

آخر میری بوڑھی آنکھیں لاشوں کے انبار پہ کب تک بین کریں

 زمین


آخر میری بوڑھی آنکھیں

لاشوں کے انبار پہ کب تک بین کریں

تم لوگوں سے اک دُکھیاری کہتی ہے

تم جس بھی خدا کو مانتے ہو

اس کے نام پہ

بس کر دو

اب بس بھی کر دو

اپنی جان پہ کھیل کے تم یہ سمجھتے ہو

جنت اپنے نام کرا لی 

بھول سراسر، خام خیالی، خوش فہمی ہے

جنت ایسے کب ملتی ہے؟

میرے جیسی ماؤں کے اے بِگڑے بچو

آخر تم کب سُدھرو گے


شبیر نازش

No comments:

Post a Comment