کہاں دورِ سرمایہ داری گیا
کہاں دورِ سرمایہ داری گیا؟
تماشہ گیا یا مداری گیا؟
ابھی تو وہی سیم و زر تن پہ ہے
تماشہ ابھی اپنے جوبن پہ ہے
نظر تو حقیقت میں خیرہ ہے اب
دہن سب کا حیرت نے چیرا ہے اب
یہ بھیڑ اور بڑھتی چلی جائے گی
ابھی عقل دھوکے نئے کھائے گی
کھلاڑی تو وہ ہاتھ دکھلائیں گے
تماشے تماشائی بن جائیں گے
ابھی فرق سارا بدل جائے گا
سب عالم ہی کرتب میں ڈھل جائے گا
چنگھاڑیں ہیں جو، ہوں گی سرگوشیاں
بجائیں گے سب اس قدر تالیاں
ذرا دیر میں سب کی دہلے گی روح
ابھی اور آئیں گے طوفانِ نوح
ابھی آنکھیں بھر لیں گی خود میں دھواں
لگائے گی ہونٹوں پہ قدغن، زباں
بدل جائیں گے نام اعداد سے
مگر کھیل نکلے گا اس ہاتھ سے
تو یہ بازیاں بھی پلٹ جائیں گی
یہ بے روح بھیڑیں بھی چھَٹ جائیں گی
چڑھا ہے، سو پانی اتر جائے گا
گھروندا ہے، یکدم بکھر جائے گا
یہ چکر کسی سے بھی ٹلتا نہیں
سدا کوئی سِکہ بھی چلتا نہیں
فیصل عظیم
No comments:
Post a Comment