ترے خیال کے موسم، ترے جمال کے رنگ
رکھے ہوئے ہیں ترے رنگ میں سنبھال کے رنگ
وہی ہیں آپ ابھی تک ، وہی ہوں میں تا حال
وہی جواب کا عالم، وہی وصال کے رنگ
میں اس مقام پہ پہنچا کہ دھول چھٹنے لگی
دکھائی دینے لگے ترے خدوخال کے رنگ
تری مثال نے جیسے دھنک سے جوڑ دیا
کہ ہیں مثال کے اندر تری مثال کے رنگ
الٹ پلٹ کے جو دیکھا فراقِ گم گشتہ
کہیں کہیں نظر آئے ترے وصال کے رنگ
گزر گئیں ہیں بہاریں ترے بغیر اکرام
چلے گئے ہیں محبت پہ خاک ڈال کے رنگ
اکرام عارفی
No comments:
Post a Comment