Sunday, 6 September 2020

جیون ساتھی

جیون ساتھی

آنکھ سے آنسو بہا کر
خوف کے عالم میں
جیون کے کئی لمحے بِتا کر
اور لہو اپنا ہی پی پی کر
بہت کڑھ کڑھ کے جی کر بھی
تِرے ہونٹوں پہ کیسی مسکراہٹ ہے
کہاں سے یہ خریدی ہے؟
کسی بازار سے مِل جائے تو مجھ کو بھی لا دینا

فیصل عظیم

No comments:

Post a Comment