میری آنکھوں سے دیکھو
اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وُسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا
کہیں پر، دور، اک نُقطہ سا روشن تھا
زمیں کہیے، زماں کہیے، کہ اپنا آسماں کہیے
سبھی کچھ اس میں گم پایا
وہ اک ذرہ
کہ جس کی وُسعتوں کو بانٹ کر ہم نے
کئی خِطے بنا ڈالے
ہر اک خِطے میں ہم نے سرحدیں بھی خوب کھینچی ہیں
سو اک سرحد کے اندر بھی کئی ٹکڑے نظر آئے
کہ جن ٹکڑوں کے ٹکڑوں میں کہیں اک شہر بستا ہے
کہ جس کے ایک ٹکڑے میں کہیں کوئی محلہ ہے
کہ جس کے ایک حصے میں کوئی چھوٹا سا گھر ہو گا
اور اس گھر کے کسی کمرے کے کونے میں
کوئی اپنی حقیقت لکھ رہا ہو گا
فیصل عظیم
No comments:
Post a Comment