سفر پہ بھیج کے اسباب مار ڈالے گا
وہ آنکھیں بانٹے گا اور خواب مار ڈالے گا
بھنور، سراب، بگولے، چراغ، پھول، ہوا
مجھے یہ حلقۂ احباب مار ڈالے گا
بچا کے دھوپ سے جن کو جوان ہم نے کیا
تم آ تو جاؤ گے لیکن تمہارے آنے تک
مجھے مِرا دلِ بے تاب مار ڈالے گا
ہر ایک دور میں لگتا ہے ہم کو لکھتے ہوئے
ہمیں کتاب کا یہ باب مارڈالے گا
کسی کو نیند کے پانی میں موت آئے گی
کسی کو دیدۂ بے خواب مار ڈالے گا
کوئی امید نے لٹنا ہے ساحلِ دل پر
کسی سفینے کو گرداب مار ڈالے گا
کسی بھی لو نے اگر سر اٹھایا بستی میں
چراغِ منبر و محراب مار ڈالے گا
میں ایک نغمۂ تجرید ہوں تحیر کا
مجھے تعلقِ مضراب مار ڈالے گا
علی ارمان
No comments:
Post a Comment