Friday, 4 September 2020

اک زخم بے رفو ہے مجھے اب پتا چلا

اک زخم بے رفُو ہے، مجھے اب پتا چلا
اے زندگی! یہ تُو ہے، مجھے اب پتا چلا
جس کے لیے یہ دل ہے لہو سے بھرا ہوا
وہ اور آرزو ہے، مجھے اب پتا چلا
میں جس سے مانگتا رہا پانی تمام عمر
تصویرِ آبجُو ہے، مجھے اب پتا چلا
پہلےمیں رنگِ گل کو سمجھتا تھا رنگِ گل
یہ بھی مِرا لہو ہے، مجھے اب پتا چلا
اب لینے آ گیا ہے سکوتِ فنا مجھے
تُو کتنی خوش گلو ہے، مجھے اب پتا چلا
شکوہ شرابِ شوق کی قِلت کا تھا عبث
ہر غنچہ اک سبُو ہے، مجھے اب پتا چلا
اس شہرِ دل میں ہیں کئی صحرا بسے ہوئے
سانسیں نہیں یہ لُو ہے، مجھے اب پتا چلا
جس نے شجر حجر سے کیا آدمی مجھے
یہ وحشتِ نمو ہے، مجھے اب پتا چلا
نقش و نگارِ نغمہٴ ہستی کی ابتدا
بس اک صدائے ہُو ہے، مجھے اب پتا چل

علی ارمان

No comments:

Post a Comment