Saturday, 5 September 2020

ہر ایک رنگ سے یوں ماورا ہوا ہے فقیر

ہر ایک رنگ سے یوں ماورا ہوا ہے فقیر
کہ سر میں ڈال کے مٹی ہرا ہوا ہے فقیر
روئیں روئیں میں رواں ہے کسی چراغ کی یاد
وہ جس کی لو سے لبا لب بھرا ہوا ہے فقیر
نہ کچلی جائے کوئی سبز گھاس کی پتی
زمیں پہ چلتے ہوئے بھی ڈرا ہوا ہے فقیر
جو مجھ کو مارنے آئے، کوئی بتائے اسے
کہ زندہ ہو کے بھی کب سے مَرا ہوا ہے فقیر
جہاں محل ہوا کرتا تھا اس کا، اب وہاں پر
کٹورا بھیک کا بن کر دھرا ہوا ہے فقیر
درونِ دل نہیں اب کچھ بھی، بیدلی بھی نہیں
کمالِ فقر پہ بے ماجرا ہوا ہے فقیر
یہ کائنات اسے لگ رہی ہے اک سُر میں
جب اس کی تال کا اک ماترا ہوا ہے فقیر
ہے بے کنار سمندر کوئی خموشی کا
کہ جس کی موج میں نغمہ سرا ہوا ہے فقیر
طلائے خاص سے بنتا نہیں کوئی زیور
ملا کے کھوٹ کو خود میں کھرا ہوا ہے فقیر
چڑھانے کے لیے اپنے مزار پر ارمان
سفید پھولوں کا اک ٹوکرا ہوا ہے فقیر

علی ارمان

No comments:

Post a Comment