ہر ایک رنگ سے یوں ماورا ہوا ہے فقیر
کہ سر میں ڈال کے مٹی ہرا ہوا ہے فقیر
روئیں روئیں میں رواں ہے کسی چراغ کی یاد
وہ جس کی لو سے لبا لب بھرا ہوا ہے فقیر
نہ کچلی جائے کوئی سبز گھاس کی پتی
جو مجھ کو مارنے آئے، کوئی بتائے اسے
کہ زندہ ہو کے بھی کب سے مَرا ہوا ہے فقیر
جہاں محل ہوا کرتا تھا اس کا، اب وہاں پر
کٹورا بھیک کا بن کر دھرا ہوا ہے فقیر
درونِ دل نہیں اب کچھ بھی، بیدلی بھی نہیں
کمالِ فقر پہ بے ماجرا ہوا ہے فقیر
یہ کائنات اسے لگ رہی ہے اک سُر میں
جب اس کی تال کا اک ماترا ہوا ہے فقیر
ہے بے کنار سمندر کوئی خموشی کا
کہ جس کی موج میں نغمہ سرا ہوا ہے فقیر
طلائے خاص سے بنتا نہیں کوئی زیور
ملا کے کھوٹ کو خود میں کھرا ہوا ہے فقیر
چڑھانے کے لیے اپنے مزار پر ارمان
سفید پھولوں کا اک ٹوکرا ہوا ہے فقیر
علی ارمان
No comments:
Post a Comment