Saturday, 5 September 2020

دیکھ لیتا ہوں اگر کوئی شناسا چہرہ

دیکھ لیتا ہوں اگر کوئی شناسا چہرہ
ایک لمحے کو اسے دیکھ کے رک جاتا ہوں
سوچتا ہوں کہ بڑھوں اور کوئی بات کروں
اس سے تجدیدِ ملاقات کروں
لیکن اس شخص کی مانوس گریزاں نظریں
مجھ کو احساس دلاتی ہیں کہ اب اس کے لیے
میں بھی انجان ہوں، اک عام تماشائی ہوں
راہ چلتے ہوئے ان دوسرے لوگوں کی طرح

امجد اسلام امجد

No comments:

Post a Comment