Friday, 4 September 2020

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں

دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیں 
ہم اپنے ہی خوف کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں 
⽹دیکھوں تو آئینے کا زنگار سلگتا ہے⽹ 
بند کروں تو آنکھوں کے انگارے جاتے ہیں 
ڈھونڈ رہے ہیں کب سے اپنے لہجے کا تِریاق 
لفظ ہمارے ہم پر ہی "پھنکارے" جاتے ہیں 
نئے پرندے، نئی اڑانیں، نئی سحر کے گیت 
بیداروں پر روشن خواب اتارے جاتے ہیں 
آدرشوں کی ڈار کا پیچھا کرتے گلہ بان 
اپنے خوابوں کی سرحد پر مارے جاتے ہیں 
داد فروشی،۔ کاسہ لیسی،۔ بار شناسائی 
محفل محفل کیا کیا قرض اتارے جاتے ہیں 

فیصل عظیم

No comments:

Post a Comment