Monday, 7 September 2020

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں

اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریں
میں تو چپ ہوں اب مِری تنہائیاں باتیں کریں
اتنی دیواروں میں اک دیوار ہی سمجھا مجھے
آ کے میرے سائے میں پرچھائیاں باتیں کریں
روکنا بھی ناروا ہے، ٹوکنا بھی ناگوار
کان تب ہوتے ہیں جب رسوائیاں باتیں کریں
خود کلامی کا فسوں، تنہائیوں کی گفتگو
اس سے تو بہتر ہے جب پرچھائیاں باتیں کریں
قافلے کی تو سماعت اور زباں تک لٹ گئی
ہندسوں کے دشت میں پروائیاں باتیں کریں
یہ در و دیوار یہ چھت جو کبھی گرتی نہیں
میرے اٹھنے تک یہی پہنائیاں باتیں کریں

فیصل عظیم

No comments:

Post a Comment