Monday, 7 September 2020

کتنی صدیاں نارسی کی انتہا میں کھو گئیں

کتنی صدیاں نارسی کی انتہا میں کھو گئیں
بے جہت نسلوں کی آوازیں خلا میں کھو گئیں
رنگ و بو کا شوق آشوبِ ہوا میں لے گیا
تتلیاں گھر سے نکل کر ابتلا میں کھو گئیں
کون پس منظر میں اجڑے پیکروں کو دیکھتا
شہر کی نظریں لباسِ خوشنما میں کھو گئیں
منتظر چوکھٹ پہ تعبیروں کے شہزادے رہے
خواب کی شہزادیاں قصرِ دعا میں کھو گئیں
سانپ نے ان کے نشیمن میں بسیرا کر لیا
پیڑ سے چڑیوں کی مہکاریں فضا میں کھو گئیں
کوئی کیا بابِ اماں آفت زدوں پر کھولتا
دستکیں گلزار طوفاں کی صدا میں کھو گئیں

گلزار بخاری

No comments:

Post a Comment